Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • حضرت امام مهدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ

    ہر دین کے پیروکار اپنے اپنے اندازسے کسی نہ کسی ہستی کے منتظر ہیں، اسی طرح سب مسلمان بھی امام مہدی ؑ کے منتظر ہیں البتہ بعض کا کہنا ہے کہ وہ پیدا ہوں گے اور ہم ان خوش نصیبوں سے ہیں جن کے اصولِ دین میں ہے کہ سلسلہ امامت کا بارواں ستارہ زندہ ہیں اور انشا ءاللہ جلد ظہور فرمائیں گے۔ امام زمانہ کے وجود،اُن کے زندہ ہونے اورطویل عمر کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں۔ کائنات میں طویل عمر اور غیبت میں رہنے کے دو طرح کے گروہ ہیں؛ نیک اور بد۔ نیک گروہ میں جِن خدا کی ایسی مخلوق ہے جوحضرت آدم ؑ کی تخلیق سے پہلے بھی تھی اور اب تک ہے، فرشتے حضرت آدم ؑ سے پہلے بھی تھے اور اب تک ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ، حضر ت خضرؑاور حضرت ادریسؑ اب تک زندہ ہیں۔ بد گروہ میں شیطان رجیم حضرت آدم ؑ سے پہلے بھی موجودتھا اور اب بھی زندہ ہے اور اسی طرح جوج ماجوج اور دجال زندہ ہیں۔ جہاں تک طویل عمر کا تعلق ہے تو متعدد افراد گذرے ہیں مثلاً لقمانؑ 1000 سال اور نوحؑ 2500 سال زندہ رہے۔ امام زمانہ کو پردہ غَیبت میں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ حجت خدا باقی رہے کیونکہ تمام اماموں کو یا تو تلوار سے یا زہر سے شہید کیا گیا۔جس زمانہ میںامام مہدی ؑ کی ولادت کی توقع تھی ،عباسی حاکم مستعین باللہ تخت نشین تھاپھر معتز باللہ،مہتدی باللہ اور معتمد علی اللہ آتے گئے۔ان کے علماءنے عباسیوں کوبتایا تھا کہ امام حسن عسکری ؑ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہو گا جو انقلاب لائے گا۔ عباسی حکمرانوں کو انقلاب مہدی ؑ کی نوعیت کی سمجھ میں نہ آئی اور وہ سمجھے کہ شایداُن کی حکومت ختم کر دی جائے گی اور وہ اپنی تمام توانائیوں کو اس بچہ کی تلاش اور قتل پر صرف کرنے لگے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم اُس وقت سے لے کر قیامت تک کے دور پر غور کریں تو یہ نکتہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ باطل کا نمائندہ شیطان موجود ہو اور لوگوں کو خراب کرے مگر اس کے مقابلہ میں رحمٰن کا نمائندہ نہ ہوجو لوگوں کو ہدایت کرے ، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ ۔ امام جعفر صاد قؑ نے فرمایا تھا کہ سورج بادلوں میں بھی ہو توبھی اس کا فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح امام زمانہ غَیبت میں رہ کربھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔مام جعفر صاد قؑ ؑ کا ایک فرمان ہے کہ ہمارے ماننے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت کرتے۔تو ثابت ہوا کہ اللہ کے مطیع افراد ہی معصوم اماموں ؑ کے ساتھ ہو سکتے ہیں اور سلسلہ ولایت کا آخری ستارہ امام محمد مہدی القائمالمنتظر، عجل فرجہ ہیں۔ ہر دانشمند اس مسلمہ حقیقت کا عقیدہ رکھتا ہے کہ مہدی معود عجل فرجہ الشریف کا ظہور غیر متنازعہ فیہہے۔خواہ صاحبان گرجا ہوں، یاارباب سیناگوج ،مندروں کے پجاری ہوںیا گوردواروں کے متوالے،اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے والے ہوںیا منکرین وجود باری تعالیٰ،کیمونسٹ و سوشلٹ ہوں                                        سب کے یادہریے ہوں۔سب کے سب اس حقیقت پر متفق ہیں کہ روئے ارض کو ایک ایسے مصلح اور عادل حاکم (saviour)کی ضرورت ہے جو طبقاتی کشمکش اور ذاتی جذبات سے اعلیٰ اور بالا ہو کر ایسی عادلانہ حکومت قائم کرے جس میں مظلوم کی داد رسی ہو اور ظالم اپنے کیفر کردار کو پہنچے۔اس سلسلے میں ہر قوم اور ملت کے دانشورافرادنے بتصانیف بھی کی ہیں ۔خصوصاً اُمّتِ مسلمہ نے اس سلسلہ میں کافی کام کیا ہے اور امت مسلمہ میں سے ملتِ شیعہ امامیہ نے بہت بڑی جد و جہد کی ہے کیونکہ ختمی مرتبت محمد کے غیر مبہم ارشادات موجود ہیں کہ ایسا حاکم عادل ضرور ہو گا جو صرف اور صرف میری اولاد سے ہوگا۔چونکہ ملتِ شیعہ امامیہ وفات نبی سے آج تک ذرّیت نبی کے آئمہ سے وابستہ چلی آرہی ہے اس لئے ان کے پاس وجودِ مہدی موعود کے نہ صرف قرآن و سنت سے دلائل و برائین موجود ہیں بلکہ ملت مسلمہ کی تاریخ کے علاوہ مشاہدات بھی ان کے حق میں ہیں۔ہمارے علماءکرام میں سے چار کو براہ راست امام زمانہ کے وکیل ہونے کا شرف حاصل ہے جنہیں نواب اربعہ کہتے ہیں(عثمان ابن سعیدؒ،محمد ابن عثمان ؒ،حسین ابن روح نو بختیؒ اور علی بن محمد سمریؒ) علماءکرام کی ایک کثیر تعداد وہ بھی ہے جنہیں حضرت حجت کی زیارت کا شرف نصیب ہوا ہے مثلاً مقدس ادبیلی ؒ، علامہ بحر العلومؒ اور حاجی علی بغدادی ؒ،سید طاؤس، علامہ حلی ،شیخ مرتضیٰ انصاری وغیرہ۔ بہت سے نام کا ہمیں علم بھی نہیں۔مذکورہ افراد کے شاگردوں اور معرفت رکھنے والے افراد نے اُن کے بارے میں اپنی تصنیفات میں تذکرہ کیا ہے۔ ہمارے پاس ایک بہت ہی بڑی دلیل اور بھی ہے: اللہ اور اُس کی توحید کے متعلق کس نے بتایا؟ یقینا ایسے سچے انسان نے جس کی سچائی کا بدترین دشمن بھی اعتراف کرتا تھا،تو امام زمانہ امام مہدی ؑ کے بارے میں بھی اُسی ہستی نے بتایا ہے۔انہی کی نسل سے گیارویںمعصوم اما م حسن عسکری ؑ کی زوجہ نرجس خاتونؓکے بطن سے 15 شعبان 255ھ کی رات کو سامرہ عراق میں پیدا ہو نے والے بچے کا تعارف اس طرح کروایا کہ اللہ کی بے پایاں حمد کہ مجھے میرا جانشین اپنی زندگی میں دکھلا دیاجو فرزند تو میرا ہے مگر صورت اور سیرت میں شبیہِ رسول ہے۔اللہ ہی پردہ غیب میں اس کی حفاظت کرے گااسی کے ظہور سے خطئہ ارض عدل وانصاف کا گہوارہ بن جائے گا۔امام مہدی ؑ نے صدائے اذان و اقامت سن کر انگشت کو بلند کیا کہ چھینک آگئی۔فوراً کہا:الحمد لللہ ربّ العالمین و صلی اللہ علی محمد و اٰلہِ الطاہرینoنومولود کے اوّلین الفاظ نے ثابت کردیا کہ وہ عام بچہ نہیں ہے۔بچہ گہوارہ میں جھول رہا تھا اور خادم ِخانہ ابو نصر پاس کھڑے تھے کہ شہزادہ بول اُٹھا: اے ابو نصر!بھلا مجھے پہچانتا بھی ہے کہ میں کون ہوں؟ میں خاتم الاوصیا ہوں۔اور خدا وند ِقدوس میرے ہی ذریعے میرے اہلبیت ؑاور میرے شیعوں کے مصائب دور فرمائے گا۔ اس ولادت کی ایک اور عظیم گواہ امام محمد جواد تقی ؑ کی بیٹی،امام علی نقی ؑ کی ہمشیرہ اور امام حسن عسکری ؑکی پھوپھی سیدہ حکیمہ خاتون ؓہیں جو اُس وقت بنی ہاشم میں سب سے محترم تھیں۔اپنے وقت کے مسند نشین امام حسن عسکری ؑ کے سامنے ولی العصر کی ولادت کے سلسلہ میں دو باتیں انتہائی اہمیت کی حامل تھیں؛ اول یہ کہ حضرت حجت کی ولادت کو نظر اغیار سے پوشیدہ رکھا جائے تاکہ امانت خدا کی زندگی کو کوئی خطرہ نہ ہو۔دوسرا یہ کہ اپنوں میں اس قدرشہرت دی جائے کہ ہزاروں برس پردئہ غیبت میں گذارنے کے باوجود بھی کوئی تردید ِ ولادت نہ کر سکے۔اپنے مقام پر دونوں باتیں جتنی اہم تھیں اُتنی ہی متضاد بھی تھیں لیکن فکرِ امامت نے دونوں مسائل کو آسانی سے حل کرلیا۔اخفاءکا یہ عالم تھا کہ آپؑ کے بہت سے قریبی رشتہ داروں کو بھی شہادت تک پتہ نہ چل سکاکے آپؑ کا فرزند بھی ہے یا نہیں؟اور حکومت وقت کے جاسوس بھی ناکام رہے۔ البتہ جب امام عسکری ؑ کانماز جنازہ پڑھانے کے لئے امام مہدی ؑ پہنچنے تو سب آگاہ ہوئے۔پھر حکومت نے کئی مرتبہ چھاپے مارے مگرناکام رہے۔دوسری جانب ایسا انتظام کیاگیا کہ روئے ارض پر بکھرے( اور صدیوں پر پھیلے) ہوئے تمام شیعانِ آل ِمحمد ؑکو مطلع کر دیا گیا۔قُم میں احمد بن اسحاق کو،حمزہ ابن ابوالفتح کے ذریعہ ابن منذر کو،نسل ِ امام حسن ؑمیں سے حسن ابن حسین کو،اپنے صحابی عثمان بن سعید کو،بنی ہاشم کے اہم افراد کو،ابرائیم ابن ادریس کو،سامرہ سے باہر رہنے والے ایک شیعہ کو،محمد ابن ابرائیم کو،اور اسی طرح دوسرے اہم افراد کو بتایا گیا۔ ولادت کے تیسرے دن امام حسن عسکری ؑ نے شیعوں کی ایک جماعت کے سامنے اس عظیم بچہ کو پیش کیا اور فرمایا:یہ میرا جانشین اور تمہارا آقا ہے ۔میرے بعد یہی تمہارا سربراہ ہے ۔ یہی وہ قائم ہے جس کا انتظار کرتے کرتے آنکھیں تھک جائیں گی ۔اب امام مہدی ؑ کی غیبت کا زمانہ شروع ہوتا ہے جس کے دو حصے ہیں؛غیبت صغریٰ (255ھ سے 329 ھ تک 74سال)اور غیبت کبریٰ (329ھ کے بعد سے)۔غیبت صغریٰ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا حصہ آپؑ کا اپنے والد کے زیر سایہ(پانچ سال)اور دوسرا 260ھ کے بعد غیبت کبریٰ کے آخری منٹ329ھ تک(69سال) ہے۔عام انسانوں کے پاس اسی غیبت صغریٰ کے دور کے متعلق سب کچھ واضح ہے اور غیبت کبریٰ سے ظہور امام تک صرف تعجیل ظہور کی دعا کثرت سے کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور ظہور کے زمانہ کی بعض نشانیاں اور انقلاب کا مقصد بتایا گیاہے ۔ البتہ اس پورے دور میں امام ؑ کا رابطہ،اُن کا مقام رہائش اور نسل امام مہدی ؑکے بارے میں مختلف آراءپر مشتمل مواد پایا جاتاہے۔اگر کسی طور پرآپؑ کا رابطہ کسی فرد سے رہتا بھی ہوتب بھی وہ اس انتظام( اللہ کی منشاءسے غیبت امام ؑ) کی ضرورت کی خاطر عام انسانوں کو نہ بتا سکتا ہو!یہ رابطہ مختلف زمانوں اور مختلف افراد کی نسبت سے صدیوں پر پھیلا ہوا ہے( اور ظہور امام تک رہے گا) مگر اُن پر پابندی ہو سکتی ہے کہ وہ اس کاا حوال بیان نہیں کرسکتے۔اور کبھی کبھی صرف اُتنا ہی بتا سکتے ہیں جتنا امام زمانہ اُن کو اجازت دیتے ہوں۔یہ افراد ! عام افراد نہیں ہو سکتے !یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے۔ امام مہدی ؑ موعودکے موضوع پرمہدی ؑ کی ولادت سے قبل اورولادت کے بعد اورغیبت کے تما م ادور میں بے شمار کتب بھی لکھی گئیں ہیں۔اس سلسلے میں قران کی 94آیات، متعدداحادیث رسول اور آئمہ معصومین کے بے شمار اقوال بھی موجودہیں۔بعض روایات و احادیث میں اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ غیبت ثانیہ اتنی طویل ہو گی کہ اکثریت عقیدہ امامت حضرت حجت چھوڑ بیٹھے گی اور غیبت کی تردید و تکذیب شروع کر دیں گے۔اور بعض احادیث میں بتایا گیا ہے کہ غیبت کبریٰ میں آپ ؑ کی اقامت گاہ سے آپ ؑ کے خدمت گذار وںکے سوا کوئی بھی واقف نہ ہوگا۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                       اسلامی عقائدمیں مہدی منتظر ؑ کی حقیقت کیا ہے؟اس بحث کے دو جز ہیں: پہلے جز کا تعلق کتاب و سنت کے حوالے سے مہدی ؑکی بحث سے ہے اور دوسرے کا تعلق مہدی ؑ کی زندگی،ان کے غائب ہونے اور دوبارہ ظاہر ہونے سے ہے۔جہاں تک پہلے جز کا تعلق ہے شیعہ اور سنی دونوں کا اس پراتفاق ہے کہ قران میں موجود ہے اور رسول اللہ نے مہدی ؑ کی بشارت دی ہے۔آپ نے اپنے اصحاب ؓ کو بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مہدی ؑکو آخر زمانے میں ظاہر کرے گا۔مہدی ؑ کی احادیث شیعہ اور اہل سنت دونوں کی معتبر کتابوں میںملتی ہیں۔سنن ابن داوؤد میں ہے کہ رسولاللہ نے فرمایا:اگردنیا کا فقط ایک دن باقی رہ جائے تو اس ایک ہی دن کو اللہ تعالیٰ اتنا طول دے گا کہ اس میں ایک شخص کو بھیجے گاجس کا نام میرے نام پر ہو گااور اس کی کنیت میری کنیت پرہو گی۔وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی۔ سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسولاللہ نے فرمایا:مہدی ؑ ہم اہل بیت سے ہے،مہدی ؑ فاطمہ ؑ کی اولاد ہوگا۔صحیح ترِمزی میں آیا ہے کہ رسولاللہ نے فرمایا:ایک شخص میری اُمت میں سے حکمراں ہو گا۔ اس کا نام وہی ہوگا جو میرا نام ہے۔اگرقیامت آنے میں ایک دن بھی باقی ہو گاتو اللہ اس دن کو اتنا طویل کردے گا کہ یہ شخص حکمراں ہو سکے گا۔صحیح بخاری میں ابو قتادہ انصاری کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت ہے کہ ان سے ابوہریرہ نے کہا کہ رسولاللہ نے فرمایا:کیسا ہو گا جب ابن مریم ؑتم میں نازل ہو ں گے اور تمہارے امام تم میں سے ہوں گے۔قاضی ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس بارے میں متواتر احادیث ہیں کہ اس امت میں مہدی ؑہوںگے اور عیسیٰ بن مریم ؑ آسمان سے اتر کرآئیں گے اور مہدی ؑ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔اہل سنت ہی کے مفتی سیّد نے اپنی کتاب العقائد اسلامیہ میں لکھاہے کہ مہدی ؑ کا تصور اسلامی عقائد کا جزو ہے جس کی تصدیق واجب ہے ۔شیعہ کتب میں بھی مہدی ؑ کی احادیث کثرت سے نقل کی گئی ہیںیہ تک کہا گیا ہے کہ احادیث مہدی ؑ سے زیادہ کوئی اورحدیث رسول سے روایت نہیں کی گئی ہے۔محقق لطف اللہ گلپائیگانی نے اپنی کتاب منتخب الائر میں مہدی ؑکے متعلق ساٹھ 60سے زیادہ روایات سنی ماخذوں سے نقل کی ہیں جن میں صحاحِ ستہ بھی شامل ہے اور نوے 90سے زیادہ شیعہ ماخذوں سے نقل کی ہیں جن میں کتب اربعہ بھی شامل ہیں۔دوسری بحث مہدی ؑ کی ولادت،ان کی زندگی،ان کی غَیبت اور ان کی عدم وفات سے متعلق ہے۔یہاں بھی علمائے اہل سنت کی ایک بڑی تعداد یہ مانتی ہے کہ مہدی ؑ،محمد بن العسکری ؑ ہیں جو آئمہ اہل بیت میں سے بارہویں امام ہیں وہ زندہ موجود ہیں اور آخری زمانے میں ظاہر ہوکر زمین کو عدل و انصاف بھر دیں گے۔ ان سے دین کو کامیابی حاصل ہو گی۔یہ علماءاس طرح شیعہ امامیہ کے اقوال کی تصدیق کرتے ہیں۔ان میں محی الدین ابن عربی،سبط ِ ابن جوزی، عبدالوہاب شعرانی مصری،ابن خشّاب،محمد بخاری حنفی،کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی وغیرہ شامل ہیں۔اس کے بعدوہ اہل سنت باقی رہ جاتے ہیں جو احادیث کی صحت کا اعتراف کرنے کے باوجود مہدی ؑ کی ولادت اور ان کے زندہ باقی رہنے کا انکار کرتے ہیں،یہ انکارمحض ضد اور تعصب کی بنا پر ہے ورنہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔قران کریم کسی ایسے نظریے کی نفی نہیں کرتابلکہ خود اللہ تعالیٰ نے متعدد مثالیںبیان کی ہیں تاکہ جمود کا شکار لوگ آزادی سے سوچ سکیں تاکہ اُنہیں یقین آ جائے اور وہ مان لیں کہ اللہ نے متعدد معجزات اپنے پیغمبروں کے واسطے دکھائے ہیں تاکہ لوگ ان چیزوں سے نہ چمٹے رہیں جوعام طور پر واقع ہوتی رہتی ہیں۔لیکن وہ مسلمان جن کا دل نور ِ ایمان سے روشن ہے وہ حیرت زدہ نہیں ہوتے کہ:﴿ اللہ تعالیٰ نے عُزیر ؑ کوسو سال مردہ رکھنے کے بعد پھر زندہ کردیا۔ انہوںنے اپنی کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھا تو وہ بھی خراب نہیں ہوئی تھیں اور اپنے گدھے کو دیکھا اللہ نے اس کی ہڈیاں درست کر دیں اور ان پر گوشت چڑھا دیا اور گدھا دوبارہ ویسا ہی ہو گیا جیسا پہلے تھا۔حالانکہ اس کی ہڈیاں گل سڑ چکی تھیں۔﴿حضرت ابرائیم ؑ                             نے پرندوں کے ٹکڑے کرکے ان کے اجزاءپہاڑوں پر بکھیر دیے اور پھر جب ان کو بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے آگئے۔ ﴿جب ابرائیم ؑ کو آگ میں ڈالا گیا تووہ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابرائیم ؑ کو نہ جلایا اور نہ کوئی ضرر پہنچایا۔﴿ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اوروہ ابھی زندہ ہیںاور ایک نہ ایک دن زمین پر واپس آئیں گے۔﴿حضرت عیسیٰ ؑ مُردوں کو زندہ کردیتے تھے اور پیدائشی مبروص اور اندھے کو اچھا کر دیتے تھے۔﴿حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے لئے سمندر پھٹ گیا تھا اور یہ لوگ بیچ میں سے اس طرح گذر گئے کہ ان کے بدن بھی گیلے نہ ہوئے تھے۔حضرت موسیٰ ؑ کا عصا سانپ بن گیا تھا اور دریائے نیل کا پانی خون میں تبدیل ہو گیا تھا ۔﴿حضرت سلیمان ؑپرندوں ،جنوںاور چونٹیوں سے باتیں کیا کرتے تھے ۔ان کا تخت ہَوا میںاُڑتا تھا اور لمحوں میں ملکہِ بلقیس کاتخت منگوا لیا تھا۔ ﴿اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو 309سال تک مُردہ رکھا اور پھر زندہ کر دیا۔ ﴿حضرت خضر ؑ ،جن کی ملاقات حضرت موسیٰ ؑ سے ہوئی تھی زندہ سلامت ہیں۔﴿بدکار افراد میں ابلیس ملعون زندہ ہے حالانکہ وہ حضرت آدم ؑ سے بھی پہلے کی مخلوق ہے اور ساری تاریخ انسانیت اس کی آنکھوں کے سامنے گذری اور وہ ہر موڑ پر ساتھ رہا ہے۔وہ خود پوشیدہ ہے اس کی بداعمالیوں سے سب واقف ہیں،نہ اس کو کسی نے دیکھا ہے اور نہ کوئی دیکھے گا۔وہ اور اس کے چیلے چانٹے سب لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر ان کو کوئی نہیں دیکھتا۔پس جو مسلمان ان سب باتوں پر یقین رکھتا ہے ان کے وقوع پذیر ہونے پر اسے کوئی حیرانی نہیں ہوتی،اس کے لئے اس میں کیا تعجب کی بات ہے کہ امام مہدی علیہ السلام ایک عرصے تک اللہ تعالیٰ کی کسیمصلحت کی وجہ سے پوشیدہ رہیں؟جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے اس سے کہیں زیادہ غیر معمولی واقعات قران مجید میں مذکور ہیں۔یہ خارق العادات واقعات عام طور پر نہیں ہوتے،نہ لوگ ان سے مانوس ہیں بلکہ سب لوگ مل کر بھی چاہیں تو اس قسم کے واقعات پر قادر نہیں ہو سکتے۔یہ سب اللہ کے اپنے کئے ہوئے کام ہیں اور اللہ کو کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں کسی کام کے کرنے سے نہیں روک سکتی ۔مسلمان ان باتوںکی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ قران میں جو کچھ آیا ہے مسلمان اس پر بغیر کسی استثناء یا ذہنی تحفظ کے ایمان لاتے ہیں۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     اس کے علاوہ ،مہدی ؑ سے متعلق اُمور سے شیعہ زیادہ واقف ہیں کیونکہ مہدی ؑ ان کے امام ہیں اور شیعہ ہر حال میں ان کے آباءو اجداد کے ساتھ رہے ہیں،مثل مشہور ہے:مکہ کی وادیوں کو اہل مکہ سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔ شیعہ اپنے آئمہّ کا احترام اور تعظیم کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے آئمہ کی قبروں کو پختہ اور شاندار بنایاہے جوزیارت گاہِ خلائق ہیں۔ اگر بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہوتی تو آج ان کی قبر بھی مشہور ہوتی ۔شیعہ یہ کہہ سکتے تھے کہ وہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے ،کیونکہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے جیسا کہ قران میں متعدد ایسے واقعات کا ذکر ہے۔اور شیعہ تو رجعت کے بھی قائل ہیں۔لیکن شیعہ من گھڑت اور فرضی باتیں نہیں کرتے،نہ وہ بہتان باندھتے ہیں نہ خیالی دنیا میں رہتے ہیں،جیسا کہ ان کے متعصّب دشمن سمجھتے ہیں۔اس لئے ان کا اصرار اس پر ہے کہ امام مہدی علیہ السلام زندہ ہیں،ان کو اللہ کی طرف سے رزق ملتا ہے،وہ اللہ کی مصلحت کے تحت پوشیدہ ہیں۔ممکن ہے راسخون فی العلم کو یہ مصلحت معلوم بھی ہو۔شیعہ اپنی دعاؤں میں کہتے ہیں:عجل اللہ ُ تعالیٰ فر جہ۔کیونکہ مہدی علیہ السلام کے ظہور سے مسلمانوں کی عزت و حرمت ،کامیابی و کامرانی اور اصلاح و فلاح وابستہ ہے۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں شیعہ سنی اختلاف کوئی ٹھوس اختلاف نہیں ہے کیو ں کہ اہل سنت کا بھی عقیدہ ہے کہ امام مہدی ؑ آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے،زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے، ان کے دور میں مسلمان تمام روئے زمین کے مالک ہوں گے خوشحالی عام ہوگی اور کوئی غریب نہیں رہے گا۔ اختلاف فقط اس میں ہے کہ شیعہ کہتے ہیں کہ ان کی ولادت ہو چکی ہے جبکہ اہل سنت کہتے ہیں کہ ابھی وہ پیدا ہوں گے۔لیکن اس بات پر فریقین کا اتفاق ہے کہ ان کا ظہور قیامت کے قریب ہوگااس لئے مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے اور پرانے زخموں پر مرہمپھایا رکھنے کے لئے سب مسلمانوں کو چاہئے کہ مل کر ؛ کیا شیعہ! کیا سنی! خلوص سے اپنی دعاؤں اور نمازوں میں اللہ تعالیٰ سے التجا کریں کہ وہ امام زمانہ مہدی علیہ السلام کے ظہور میں جلدی فرمائے،کیونکہ ان کے ظہور میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہے اور ان کےُ خُروج سے اُمت محمدیّہ کی کامیابی و خوشحالی وابستہ ہے ۔بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مہدی علیہ السلام آ کر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں۔سب مسلمان امام مہدی علیہ السلام کے آنے پر یقین(ایمان) رکھتے ہیں،اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی فرضی اور خیالی قصہ نہیں ہے جیسا کہ بعض شر پسند بد بخت ظاہر کرنا چاہتے ہیں،بلکہ مہدی علیہ السلام کی شخصیت ایک حقیقی شخصیت ہے جس کی بشارت رسول اللہ نے دی ہے اور جو اب پوری انسانیت کا خواب بن گئی ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ یہ عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی عقیدہ ہے کہ مُنجی یا نجات دہندہ آئے گا جو دنیا کی اصلاح کرے گا۔اس نجات دہندہ کے وہ بھی منتظر ہیں،اسی لئے مہدی علیہ السلام کے داد نبی اکرم محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام مہدی ؑ منتظر رکھا ہے۔اے اللہ! سب مسلمانوں کو خیر و تقویٰ کی توفیق دے ،ان کی صفوں میں اتحاد اور دلوں میں اتفاق پیدا کر ،ان کی خرابیوں کی اصلاح کر ،اور انہیں دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا کر ۔(الہی امین)                                                                                                                                                                                                                               امام مہدی علیہ السلام اپنے غیبت کے زمانہ میں ہماری مدد فرماتے ہیں بعض مواقع پر ہمیں اس کا ادراک بھی ہو جاتا ہے اور اکثر ہم غافل رہتے ہیں مگر مولا تو ہر حال میں ہماری مدد فرماتے ہیں۔یا امام العصر ادرکنی فی سبیل اللہ علیٰ کل حال۔یا مولانایا صاحب زمان الغوث الغوث الغوث ادرکنی ادرکنی ادرکنی الساعہ الساعہ الساعہ العجل العجل العجل امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے بیشمار علامات(جن میں سے261 تومولانا نجم الحسن کراروی نے اپنی کتاب چودہ ستارے میں درج کی ہیں) ظاہر ہوں گے پھر آخر میں آپؑ کا ظہور ہوگا۔مغرب و مشرق پر آپ ؑ کی حکومت ہو گی زمین خود بخود تمام دفائن اگل دے گی دنیا کا کوئی حصہ ایسا باقی نہ رہے گا جس کو آپ آباد نہ کردیں۔اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزوں کا علم اپنے لئے مخصوص رکھا ہے جن میں ایک قیامت بھی ہے(القران)۔ظہور امام مہدی ؑ چونکہ لازما ً قیامت سے ہے لہٰذا اس کا علم بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ آپؑ کب ظہور فرمائیں گے۔یو م ولادت سے تا ظہور آپ ؑ کی عمر کیا ہوگی؟ اسے تو اللہ ہی جانے لیکن یہ مسلمات میں سے ہے کہ جس وقت آپ ؑ ظہور فرمائیں گے مثل حضرت عیسیٰ ؑ آپ ؑ 40سالہ جوان کی حیثیت میں ہوں گے ۔امام مہدی علیہ السلام کے جھنڈے پر البیعت اللہ لکھا ہو گا اور آپ اپنے ہاتھوں پر اللہ کے لئے بیعت لیں گے اور کائنات میں صرف دین اسلام کا پرچم لہرائے گا۔ظہور کے بعد آپؑ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے،ابر کا سایہ آپؑ کے سر مبارک پر ہو گا۔آسمان سے آواز آتی ہو گی کہ یہی امام ہیں۔بے شمار واقعات پیش آئیں گے،دجال کا خروج،عیسیٰ ؑکا نزول،یاجوج ماجوج کا خروج،ہر طرف امام ؑ کی حکومت قائم ہو گی،امام کی چالیس سال کی عمر میں موت واقع ہو گی۔ اور پھر دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا اور قیامت کبریٰ برپا ہو جائے گی۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                 التماسِ دعا اے اےچ نقوی

    Thursday, August 14, 2008 at 16:30
  • اقوال حضرت امام حسین علیہ السلام

    ٭اس قوم کو کبھی بھی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی جس نے خدا کو ناراض کر کے مخلوق کی مرضی خرید لی.

    ٭خوفِ خدامیں گریہ کرنا دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہے۔

    ٭میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو اذیت سمجھتا ہوں.

    ٭جو تم کو دوست رکھے گا(برائیوں سے )روکے گا اور جو تم کو دشمن رکھے گا(برائیوں پر) اُبھارے گا .

    ٭عقل صرف پیروی کرنے سے کامل ہوتی ہے.

    ٭قیامت کے دن اسی کو امن و امان حاصل ہو گا جو دنیا میں اللہ سے ڈرتا رہا ہو.

    ٭جلد بازی ایک قسم کی بےوقوفی ہے۔

    Tuesday, August 5, 2008 at 18:40
  • لمحہ فکریہ

    لمحہ فکریہ

    آج جب کمپیوٹر پرکام کررہا تھاتو کسی نے اسکائیپ پر سلام کیا میں نے جواب دیکر پوچھا تو آپ کہاں سے ہیں تو کہنے لگا جرمنی سے حالانکہ وہ بات فارسی میں کر رہا تھا میں سمجھا شاید ایرانی ہوگا یا افغانی جو جرمنی میں کام کررہا ہوگا میں نے پھر پوچھا بھائی آپ اصل کہاں کے ہیں کہنے لگا جرمنی سے۔ مجھے کافی حیرانی ہوئی، خیر میں نے پوچھا کہ بھئی آپ نے فارسی کب اور کیسے سیکھی کہنے لگا کہ بائبل کا فارسی میں ترجمہ پڑھتے ہوئے۔ عقدہ کھلا کہ مسئلہ کیا ہے، پوچھنے لگا کہ ایرانی اور افغانی بائبل کیوں نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہاان کا تو نہیں پتہ البتہ میں کافی حد تک پڑہ چکا ہوں پھر وہ اپنے ایک اور فارسی جاننے والے جرمن دوست کو لے آیاپھر وہ میرے اوپر تبلیغ کرنے لگا مگر ان کو کیا پتہ آگے سے بھی کوئی راسخ العقیدہ مسلمان ہے۔ میں نے پوچھا آپ حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کیوں کہتے ہیں کہنے لگے انجیل پڑہو، خیر آخر میں انہوں نے لوقا کی ایک آیۃ لکھی اور کہا آپ کے لئے آج کا سبق کافی ہے۔

    اب میں سوچ میں پڑگیا ہوں اسلام و مسلمانوں کے خلاف کتنی سازشیں ہورہیں۔ وہ لوگ جرمنی میں بیٹھ کر فارسی جانتے ہیں اور ہم قرآن کی زبان نہیں سیکھتے حتٰی کہ قرآن کا ترجمہ بھی نہیں پڑہتے، کیا ہوگا ہمارا یہ لمحہ فکریہ ہے۔

    Wednesday, July 9, 2008 at 16:49
  • علم و اسلام

    حدیث شریف ہے کہ “طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمۃ” یعنی علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر واجب ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ علم حاصل کرنا فرض ہے، اعتراض کرنے والے کہ سکتے ہیں کہ فرض تو اللہ تعالٰی کی جانب سے ہوتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نہیں تو مؤبانہ گزارش ہے کہ ایک آیۃ کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اس وقت تک کلام نہیں کرتے جب تک وحی نہ ہو۔
    اب یہ اہم سوال ہے کہ کونسا علم حاصل کرنا چاہیے آیا دینی علم ہی ضروری ہے یا دوسرے علوم بھی حاصل کرنے چاہیں۔
    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ  علم مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے حاصل کرلو چاہے کافر کے پاس سے ملے ، کیا کافر کے پاس قرآن ، حدیث یا فقہ کا علم ہوگا جواب ہے نہیں تو یہ کونسا علم ہے؟
    اسی طرح ایک اور حدیث ہے
    “اطلبوالعلم ولوکان بالصین”
    ترجمہ   علم حاصل کرو چاہے آپ کو چین جانا پڑے ان دنوں جب آمد و رفت کے ذرائع محدود تھے لوگ گھوڑوں، گدھوں ،اونٹوں اور خچروں پر سفر کرتے اور چین انتہائی دور تھا اس سے آنحضرت کیا سمجھانا چاہےتھے کیا چین میں کوئی مذہبی مدرسہ تھا یا اسلام کا مرکز۔ صاف ظاہر ہے حضور سمجھانا چاہتے تھے  کہ علم کے لئے صعوبتیں  اور مصیبتیں بیان کرو جہاں جانا پڑے جاؤ مگر علم کے حصول ضرور ی ہے۔ اگر اس حدیث سے ثابت کیا جائے کہ جناب اس سے مراد تو صرف علم دین ہے تو غلط ہوگا اگر اس سے مراد صرف ہےعلم دین ہوتا  تو عرض ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود ارض مقدس میں موجود  ہیں تو پھر چین جانے کی کیا ضرورت۔
    استاد مرتضیٰ متطہری نے بھی اس حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جس کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے، اس کتاب کی رو سے المختصر ہر وہ علم دینی علم ہے جس سے معاشرے کو فائدہ ہو چاہے انجنیئرنگ ہو کا علم ہو طب کا علم ہو، فلکیات، معیشت، تجارت یا دیگر اس طرح کے علوم۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ صرف یہی علوم ضروری ہیں بلکہ قرآن، عقائد، فقہ، حدیث اور دیگر علوم بھی انتہائی ضروری ہیں۔

    Tuesday, July 8, 2008 at 05:08

TOP